Warning: file_get_contents(): https:// wrapper is disabled in the server configuration by allow_url_fopen=0 in /home/jupu01/public_html/new.jumhooripublications.com/wp-content/plugins/bwdtwpx-3D-woocommerce-product-layout/includes/admin-notice.php on line 54
Warning: file_get_contents(https://app.bwdplugins.com/way-of-api/get-api.php?show_key=true): Failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/jupu01/public_html/new.jumhooripublications.com/wp-content/plugins/bwdtwpx-3D-woocommerce-product-layout/includes/admin-notice.php on line 54
Warning: file_get_contents(): https:// wrapper is disabled in the server configuration by allow_url_fopen=0 in /home/jupu01/public_html/new.jumhooripublications.com/wp-content/plugins/bwdtwpx-3D-woocommerce-product-layout/includes/admin-notice.php on line 61
Warning: file_get_contents(https://app.bwdplugins.com/way-of-api/get-api.php?show_audience=true): Failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/jupu01/public_html/new.jumhooripublications.com/wp-content/plugins/bwdtwpx-3D-woocommerce-product-layout/includes/admin-notice.php on line 61 History - Jumhoori Publications
زیرنظر کتاب بعنوان ”پاکستان، سچ کی تلاش“ میں مصنف نے پاکستان اور اسلام، پاکستان کے تاریخی اور سیاسی پس منظر، تحریک پاکستان، خلافت اور پاکستان میں نفاذِشریعت کے حوالے سے قلم آزمائی کی ہے۔
تیجا سنگھ، راولپنڈی کے مشہور گاﺅں اڈیالہ میں 2جون 1894ءکو ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے نہایت کم عمری میں ہندومت چھوڑ کر سکھ مذہب اختیار کرلیا۔
زیرنظر کتاب سٹینلے لین پول کی تصنیف دی مون ان سپین کا اردو ترجمہ ہے۔ سٹینلے لین پول مشہور مؤرخ اور مشرقی علوم خصوصاً اسلام، عرب تاریخ اور مصری آثار قدیمہ کے ماہر تھے۔
”مقدمہ محمدبہادرشاہ(سابق شہنشاہ ِدہلی)“، ایچ۔ایل۔او۔ گیرٹ کی تصنیف دی ٹرائل آف بہادر شاہ کا اردو ترجمہ ہے۔ 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان میں عملاً برٹش راج قائم گیا۔
الطا ف حسن قریشی گزشتہ پانچ دہایوں سے میدانِ صحافت میں منفرد اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں جن کی تحریروں کا سحر قاری کو اپنے اندر جذب کر لیتا اور حسنِ معانی کا ایک چمن کھِلا دیتا ہے۔
ڈاکٹر سعد خان کی تحقیقی کتاب ”محمد علی جناح،دولت،جائیداد، وصیت“بانی پاکستان کی دور اندیشی،رہن سہن، دنیا میں احسن اور پُروقار طریقے سے بقا کے لوازمات، رشتے نبھانے، تعلیم سے محبت اور لگاو کے دریچوں کو وا کرتی ہے۔
یہ کتاب بابائے بلوچستان کی سوانح عمری ان سرچ آف سلوشن کا اردو ترجمہ ہے۔ مدبر، سیاست دان اور سابق گورنر بلوچستان میرغوث بخش بزنجو، برصغیر پاک و ہند کے بیسویں صدی کے ان چند رہنماؤں میں سے ایک تھے جو اپنے پورے سیاسی کیرئیر میں انسانی مساوات، سماجی انصاف اور امن کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہے۔
”میں پاکستان میں بھارت کا جاسوس تھا“ ایک بھارتی جاسوس موہن لال بھاسکر کی خود نوشت ہے ، جو ایک بار محمد اسلم کا بھیس بدل کر پاکستان میں داخل ہوا اور کامیابی سے واپس چلا گیا۔
فرخ سہیل گوئندی ایک ہمہ جہت شخصیت اور ترقی پسند دانشورہیں۔ سیاست سے لے کر ادب، فن وثقافت اورمختلف شعبوں کے بے شمارافراد سے ان کے ذاتی مراسم رہے۔ ترکی کے چارمرتبہ وزیراعظم رہنے والے بلند ایجوت سے لے کرعثمانی سلطان مراد کی نواسی کنیزے مراد تک بے شمارافراد سے ذاتی تعلقات رہے۔
لاہور: تاریخ و تعمیر‘‘ جناب رضوان عظیم کے مضامین کا مجموعہ ہے، جو 1970ء سے 1972ء کے دوران شائع ہوتے رہے۔ البتہ تب سے اب تک لاہور کی سڑکیں اور ماحولیاتی آلودگی میں کچھ زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مضامین میں لاہور کے فن تعمیر، شہری منصوبہ بندی اور تاریخ پر تحقیق اور اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔
میو سکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) لاہور کے پرنسپل جے ایل کپلنگ اوربرطانوی افسران اور سیاحوں کے لیے برٹش انتظامیہ کے ممبر ٹی ایچ تھارنٹن نے اس کتاب کو بنیادی طور پر لاہور سے متعلق ایک معلوماتی کتابچے کے طور پر تحریر کیا تھا۔ اس کے پہلے ایڈیشن کا نام “ہینڈ بُک آف لاہور” تھا اور یہ شہر لاہور کی گائیڈ کا کام دیتی تھی۔
سربوں نے بوسنین کی نسل کشی بڑی منظم انداز میں کی، یعنی نوجوان، پروفیشنلز اور خواتین، اُن کے قتل عام کا پہلا ہدف تھے تاکہ ایک قوم کی قیادت اور مستقبل کو مٹا دیا جائے۔ اس نسل کشی میں اڑھائی لاکھ لوگ مارے گئے۔ بیس ہزار لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں اورقوم کے ایک بڑے حصے کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی۔
زیر نظر کتاب امیکو اونوکی تیرنے کی (کامی کازی ڈائری ۔ ریفلیکشنز آف دی جاپنیز سٹوڈنٹ سولجرز) کا اردو ترجمہ ہے۔ 1944-45ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی فاشسٹ حکومت نے جاپانی یونیورسٹی طلبا کو فوج میں جبراً بھرتی کیا، جن میں سے ایک ہزار سے زائد طلبا کو توکوتھائی مشن ، یعنی دشمن کے اہداف پر خودکش مشن پر بھیجا گیا، ایک ایسا مشن جس سے زندہ واپسی کا کوئی امکان نہ تھا۔
یہ کتاب ونسٹن چرچل کی (دی سٹوری آف دی مالاکنڈ فیلڈ فورس) کا اردو ترجمہ ہے۔ ونسٹن لیونارڈ سپنسر چرچل ایک فوجی، سیاست دان، مؤرخ، آرٹسٹ، نوبل ایوارڈیافتہ مصنف اور شعلہ بیان مقرر تھے۔